پاکستان آرمی راکٹ فورس کمانڈ نے مقامی طور پر تیار کردہ ‘فتح 4’ گراؤنڈ لانچڈ کروز میزائل کا کامیاب تربیتی فائر کیا ہے۔ یہ تجربہ پاکستان کی دفاعی خود انحصاری اور طویل فاصلے تک مار کرنے والے ہتھیاروں کی تیاری میں ایک بڑی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
پاک فوج کے محکمہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق ’فتح ‘ میزائل محض ایک روایتی ہتھیار نہیں بلکہ یہ جدید ترین ٹیکنالوجی کا شاہکار ہے۔
آئی ایس پی آر کے مطابق اس کروز میزائل کی نمایاں خصوصیات میں یہ میزائل جدید ترین ایویونکس اور نیویگیشنل ایڈز سے لیس ہے، جو اسے انتہائی پیچیدہ راستوں پر پرواز کرنے اور ہدف کو تلاش کرنے میں مدد دیتے ہیں۔
یہ میزائل جدید ترین ذیلی نظاموں کی بدولت یہ طویل فاصلے کے اہداف کو سو فیصد درستی کے ساتھ نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
تجربے کے دوران اس کے ’سروائیبلٹی‘ (بقا) کے پیرامیٹرز کی بھی تصدیق کی گئی، تاکہ دشمن کے دفاعی نظام کو چکمہ دے کر ہدف تک پہنچا جا سکے۔
تجربے کے مقاصد
آرمی راکٹ فورس کمانڈ کے مطابق اس تربیتی فائر کا مقصد فوجیوں کی آپریشنل کارکردگی کو جانچنا اور مختلف تکنیکی پیرامیٹرز کی تصدیق کرنا تھا۔ اس سے نہ صرف میزائل کی فنی صلاحیتوں کی توثیق ہوئی بلکہ جنگی حالات میں فوج کی تیاریوں کو بھی تقویت ملی۔
فتح 4 کی اہمیت اور اثرات
واضح رہے کہ فتح 4 کا کامیاب تجربہ کئی حوالوں سے اہم ہے، اس میں طویل فاصلے تک مار کرنے والا یہ کروز میزائل دشمن کے گہرے علاقوں میں موجود اہم تنصیبات کو تباہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
جدید نیویگیشن سسٹم کا مطلب یہ ہے کہ اب پاکستان کو بیرونی سیٹلائٹ گائیڈنس پر انحصار کرنے کی ضرورت نہیں رہی، جو جنگی حالات میں ایک بہت بڑا پلس پوائنٹ ہے۔
اس تجربے کو فوج کے سینیئر افسران، سائنسدانوں اور انجینئرز نے مشترکہ طور پر دیکھا، جو سویلین اور ملٹری اشتراکِ عمل کی بہترین مثال ہے۔